اشرافیہ کو دی جانیوالی رعایتیں 288 ارب سے بڑھ کر 652 ارب تک پہنچ گئیں
اسلام آباد:
پاکستان میں معاشی پالیسیوں پر اشرافیہ کے اثر ورسوخ کے حوالے سے بحث شدت اختیارکرگئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹیکس کسٹمز ڈیوٹی اور مختلف شعبوں کودی جانیوالی خصوصی رعایتیں قومی معیشت کے بجائے محدود بااثرطبقے کوفائدہ پہنچا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈآف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اورکسٹمز ڈیوٹی میں دی جانیوالی چھوٹ اور مراعات کاحجم تقریباً 2,435 ارب روپے تک پہنچ چکاہے،جو ایف بی آرکی مجموعی ٹیکس وصولیوں کے تقریباً ایک چوتھائی کے برابر ہے۔
مضمون میں کہاگیاہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کسٹمزڈیوٹی میں دی جانیوالی رعایتیں 288 ارب روپے سے بڑھ کر 652 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔ ناقدین کے مطابق ان مراعات نے صنعتوں کو مسابقتی بنانے کے بجائے تحفظ یافتہ منافع خوری کوفروغ دیا۔
آٹو موبائل اور موبائل فون اسمبلی کے شعبوں کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہاگیاکہ طویل عرصے تک خصوصی مراعات کے باوجودان شعبوں میں برآمدات، ٹیکنالوجی کی منتقلی اورمقامی ویلیو ایڈیشن میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا۔
مضمون کے مطابق حکومت نے مالی سال 2025 کے بجٹ میں برآمدات پر مبنی پانچ سالہ معاشی روڈ میپ اختیارکیا ہے،جس کے ابتدائی نتائج مثبت دکھائی دے رہے ہیں۔
رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران کسٹمز ڈیوٹی کی رعایتوں میں 65 ارب روپے کی کمی ریکارڈکی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق حکومت اصلاحات کے عمل کو جاری رکھے اور مخصوص مفاداتی گروہوں کے دباؤ میں آکر پالیسیوں میں نرمی نہ کرے، تاکہ پاکستان ایک مسابقتی اور برآمدات پر مبنی معیشت کی جانب بڑھ سکے۔