| Petrol | Diesel | Kersoene Oil | |
|---|---|---|---|
| پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں | Rs. 378.41/Ltr | Rs. 520.35/Ltr | Rs. 467.48/Ltr |
گریٹر اسرائیل کا ایجنڈا اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے اس منصوبے کے خلاف مقاومت کی قوتوں کہ ختم نہیں تو کمزور کرنے کے بعد اسرائیل اور امریکا مشرق وسطی کا آخری کانٹا بھی نکالنے کے لیے پ تول چکے ہیں لیکن خوف یہ ہے کہ اس کا رد عمل نہ صرف خطے میں آۓ گا بلکہ امریکا میں بھی ہنگامے ہو سکتے ہیں جنکہ اسرائیل کے خلاف ایران وہ کچھ کرے گا جس کا نیتن یاہو اندازہ نہیں لگا پا رہے ہیں لیکن امریکا پینٹاگون کو سمجھ ہے کہ ایرانی اس مرتبہ اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کریں گے یعنی ہم تو صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ گزشتہ سال 13 سے 24 جون کی بارہ روزہ اسرائیلی ایران جنگ میں تل ابیب کی سلامتی خطرے میں پڑ گئ تھی ایرانی میزائل اور ڈرونز تو نیتن یاہو کی رہائش گاہ تک پہنچ گۓ تھے اسرائیل کا فضائ دفاعی نظام ناکام ہو گیا تھا اسرائیل ایران کے خلاف ناکام رہا تھا جس کے بعد امریکا نے 22 جون کو ایران کے ایٹمی اثاثوں پہ حملہ کیا تھا لیکن لگتا تھا وہ اسرائیل کی فرمائش پر صرف خانہ پوری تھی ایران کے ایٹمی اثاثے محفوظ مقام پہ منتقل ہو چکے تھے اگر افزودہ یورینیم کو نقصان پہنچا تو تابکاری کے اثرات ایران کے علاوہ خطے میں بھی پڑتے لیکن انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے ریڈیشن ہونے کی تصدیق نہیں کی گزشتہ تقریباً7 ماہ کے عرصے میں ایران مزید مضبوط ہو گیا ہے روس سے حربی سامان کی فراہمی خصوصاً ایرانی بحریہ کے لیے چینی دفاعی سامان امریکہ اور اسرائیل کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکی حملے کے رد عمل میں ایران نے اطراف کے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کر رکھا ہے عرب ممالک امریکا کے دوست ضرور ہیں مگر انھیں اپنی سلامتی زیادہ عزیز ہو گی اس کے علاوہ روس اور چین بھی خاموش نہیں بیٹھیں گے کیونکہ روس کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کی سرحد سے متصل اسرائیلی اڈہ ہو ایران کو قابو کرنے کے بعد امریکا اور اسرائیل میں چند گروہ کو اقتدار میں لائیں گے جیسا کہ 1979 ایرانی انقلاب سے پہلے تھا چین بھی اس صورتحال کو برداشت نہیں کر سکتا خطے میں بھارت پہلے ہی موجود ہے ایک اور ملک میں واشنگٹن اور تل ابیب کے دوست اس کے لیے بھی ناقابل قبول ہو گا امریکا اور اسرائیل یہاں رکے گے نہیں بات پاکستان اور ترکیہ تک بھی پہنچے گی کیونکہ ایک اسلامی ملک ایٹمی طاقت ہے اور دوسرا عسکری اور معاشی لحاظ سے مضبوط ہے یقیناً اگلا ہدف پاکستان کے ایٹمی اثاثے ہو سکتے ہیں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کا بھی اٹر ختم ہو جاۓ گا لہذا پاکستان ترکیہ بھی نہیں چاہیں گے کہ ان کے قریب اسرائیل آ کر بیٹھے امریکا اگر اسرائل کے بہکاوے میں آ کر ایران کے خلاف حملہ کرنے کا پاگل پن کرتا ہے تو عالمی معیشت پر انتہائ سنگین اثرات مرتب ہونگے مریکی معیشت 38 ٹریلین ڈالر کی مقروض ہے جنگ کے اخراجات مزید معاشی تباہی کی طرف لے جائیں گے ایران آسان ہدف نہیں ہے اس ر حملے کا رد عمل افریا تک سے آۓ گا کیونکہ ایران کی قیادت میں مقاومتی قوتیں مشرق وسطیٰ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا سنٹرل ایشیا اور افریقا تک پھیلی ہوئ ہیں خود امریکا برطانیہ اور یورپ میں بھی کاروائی شروع ہو سکتی ہے غزہ کی بربادی کے دوران حماس حزب اللّٰه اوع شام کی مقامتی قوتوں کو بڑا دھچکا لگا ہے لیکن ان کا خاتمہ نہیں ہوا یمن کو حوثی جو اب تک ڈٹے ہوۓ ہیں امریکا اور اسرائیل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں آبنائے حرمز پر ان کا کنٹرول ہو گا امریکی بحری بیڑے ان کا ممکنہ ہدف ہونگے ایک بھی عربی بیڑہ خلیج فارس میں غرق ہوا تو امریکا کی بالا دستی بھی ساتھ ہی ڈوب جائیں گے۔