محمد اورنگزیب ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کریں گے، بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے ہوگا
آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ آج پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، جس کا مجموعی حجم ساڑھے 17 ہزار سے 18 ہزار ارب روپے تک ہوگا۔
ذرائع کے مطابق بجٹ خسارے کا تخمینہ 5.3 سے 5.4 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے،جبکہ حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مدمیں 1,727 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے،دعوے بڑے بڑے لیکن اہداف پورے نہ ہوئے،حکومت بیشتر معاشی ٹارگٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی،معاشی ترقی کا خواب بھی ادھورا رہ گیا ۔ اقتصادی سروے نے پول کھول دیا ۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز ہے جب کہ ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اشیاء اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھائے جانے کا امکان ہے جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔
آئندہ مالی سال کے دوران برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے جب کہ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے،دفاع اور وزارت داخلہ کے سوا کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے تک ٹیکس ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کیے جانے کا امکان ہے،بجٹ میں سپرٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی تجویز ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا فائنل راؤنڈ مکمل ہو گیا ہے،آئی ایم ایف نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی منظوری دے دی ہے،تاہم اس کے لیےحکومت کو متبادل ذرائع سے ریونیو بڑھانے پر زور دیا گیا۔
ذرائع کےمطابق تنخواہ دار طبقے کے انکم ٹیکس سلیب میں ردوبدل کیا جائے گا،جس سے ریلیف کا براہِ راست فائدہ ملازمین کو پہنچے گا،تاہم اس اقدام سے قومی ریونیو پر تقریباً 50 ارب روپے تک اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
نئے آنے والے بجٹ میں مہنگائی کا ہدف 8 اعشاریہ 2 فیصد اور ٹیکس ریونیو 15 ہزار 267 ارب مقرر کیا گیا ہے,پی ٹی آئی اور اتحادیوں نے بجٹ سیشن کا بائیکاٹ نہ کرنے کا اعلان کردیا لیکن پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کیا جائے گا۔
بجٹ پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا ا س سے قبل وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر ڈھائی بجے طلب کیا گیا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں نئے وفاقی بجٹ کی منظوری دی جائے گی، وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کابینہ کو بجٹ پر بریفنگ دیں گے۔
اکنامک سروے کے مطابق ملک کی 28 اعشاریہ 9 فیصد آبادی غریب،پنجاب میں غربت کی شرح 23 اعشاریہ 3 فیصد،بلوچستان میں سب سے زیادہ 47 فیصد,خیبرپختونخوا میں 35 اعشاریہ 3 اورسندھ میں 32 اعشاریہ 6 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے،ملک میں لیبر فورس کی تعداد 8 کروڑ 31 لاکھ،7کروڑ 72 لاکھ افراد برسر روزگار ہیں، 2025 میں 7 لاکھ 62 ہزار 499 افراد روزگار کیلئے بیرون ملک گئے۔