امریکا سے معاہدے پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، سفارتی رابطے جاری ہے، مگر سمجھوتہ طے نہیں پایا ، ایرانی وزیرخارجہ
امریکی صدر نےایک بارپھر ایران کےساتھ ڈیل کی اُمید روشن کردی،امریکی صدر نےاعلان کیا ہے کہ ایران کےساتھ معاہدےکی دستاویزات آخری مرحلےمیں ہیں،رواں ہفتے کے آخر تک ڈیل پردستخط ہوجائیں گے ،تقریب ممکنہ طور پر یورپ میں ہوگی
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نےامن معاہدےکیلئےپاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا معاہدے کے بعد ایک ہفتےمیں آبنائےہرمزکھول دی جائے گی،یقین ہےایرانی سپریم لیڈرمعاہدےکی منظوری دے چکے ہیں، تفصیلات جلد سامنے آجائیں گے،باضابطہ ڈیل تک ایران کی بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی
دوسری جانب امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نےدعویٰ کیاہےکہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک ابتدائی مفاہمت طےپاگئی ہے،جس کےتحت اہم علاقائی اورسفارتی امورپر اتفاق رائے حاصل کرلیاگیا ہے،فریقین نے آبنائےہرمزکوفوری طور پرکھولنے اور 60 روزہ جنگ بندی پراتفاق کیاہے،جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پرہوگا۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کےمطابق ایران پرعائد پابندیوں میں نرمی کا انحصار تہران کی جانب سے طےشدہ شرائط پر عملدرآمد سے مشروط ہوگا۔
ایران نے امریکی صدر کے دعوؤں کی تردید کردی
ایرانی وزارت خارجہ نےردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا سےمعاہدے پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا واضح کیاکہ سفارتی رابطے جاری ہےمگر سمجھوتہ طے نہیں پایا،امریکی اقدامات سفارتی عمل کومتاثرکر رہے ہیں،قطر اورپاکستان ثالثی میں متحرک کردار ادا کر رہےہیں،ایران اپنے ریڈ لائنز پرکوئی سمجھوتہ نہیں کرےگا،دباؤ اورجبر کےسامنے نہیں جھکیں گے،متن کے بڑے حصوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہےلیکن ایران اپنی ریڈ لائنز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ایرانی اسپیکرباقر قالیباف نےکہا غلط حکمت عملی اور جلد بازی بدترین صورتحال کی طرف دھکیل رہی ہے،غلط فیصلےنہ ختم ہونے والی دلدل کو جنم دیں گے