ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں طالبہ سے جنسی زیادتی کے شواہد نہیں ملے تھے
جھنگ میں 17 سال کی طالبہ کے مبینہ اغوا اور قتل کیس میں مرکزی ملزم کے انکشافات پر مقدمے میں اغوا اور جنسی زیادتی کی دفعات شامل کر دی گئی ہیں۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں طالبہ سے جنسی زیادتی کے شواہد نہیں ملے تھے تاہم پولیس ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران نئے انکشافات کے بعد مقدمے میں اغوا اور جنسی زیادتی کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں۔
آئی جی پنجاب کے احکامات پر کیس کی تحقیقات کے لیے 8 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ جے آئی ٹی کی سربراہی ایس پی انویسٹی گیشن کر رہے ہیں جبکہ ٹیم میں 3 ڈی ایس پیز اور مختلف تھانوں کے تین ایس ایچ اوز بھی شامل ہیں۔ کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت اور پیش رفت کا جائزہ لے گی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم کے انکشافات اور تفتیش کے دوران حاصل ہونے والے شواہد کی بنیاد پر زیادتی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
مزید تحقیقات کے لیے لاہور سے آنے والی خصوصی ٹیم نے بھی جھنگ پہنچ کر ملزمان کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔ ملزمان کو جسمانی ریمانڈ کے لیے آج علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔