بھارت کی یکطرفہ پالیسیاں بین الاقوامی اعتماد کیلئے نقصان دہ ہے، روکسولانازیگون
روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانازیگون نے بھی بھارت کے آبی موقف پر شدید تحفظات کا اظہار کردیا۔ علاقائی امن کیلئے سندھ طاس معاہدے کا تسلسل ناگزیر بھی قرار دے دیا۔
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانازیگون نے کہا کہ کہا بھارت کی یکطرفہ پالیسیاں بین الاقوامی اعتماد کیلئے نقصان دہ ہے۔ بھارت کے بالائی علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر خطے میں عدم استحکام بڑھاسکتی ہے۔
ڈاکٹر روکسولانازیگون نے کہا کہ بھارت کا پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کا بیان عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے، پاکستان کی 90 فیصد سے زائد زراعت دریاؤں کےپانی پر منحصر ہے، سندھ طاس معاہدہ خطے میں پانی کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد ہے۔ بھارت پانی کےبہاؤ میں ردوبدل کرکےپاکستان کی زراعت کونقصان پہنچاسکتا ہے۔
روسی ماہر کا کہنا تھا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے، بھارت کےبالائی علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر خطے میں عدم استحکام بڑھاسکتی ہے، جنوبی ایشیا کےامن و استحکام کیلئےسندھ طاس معاہدے کابرقرار رہنا ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر سندھ طاس معاہدہ کامیاب تریب آبی معاہدوں میں شمار ہوتاہے، معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی جبکہ پاکستان کو مغربی دریاؤں کےپانی کےاستعمال کا حق حاصل ہے۔ مستقل انڈس کمیشن تنازعات کےحل کا اہم اور موثر فورم ہے۔ سندھ طاس معاہدہ خطے میں پانی کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد ہے۔