قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ کا اجلاس

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائےپلاننگ اینڈڈیولپمنٹ وخصوصی اقدامات کااجلاس

وفاق کی جانب سےاس سال کےبجٹ میں سندھ کےمنصوبوں پررقم کی کمی پرتحفظات

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ و خصوصی اقدامات کا اجلاس ہوا ہے جس میں ارکان نے وفاق کی جانب سےاس سال کے بجٹ میں سندھ کےمنصوبوں پررقم کی کمی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائےپلاننگ اینڈڈیولپمنٹ کے چیئرمین سید عبدالقار گیلانی کی زیر صدارت ہونے اجلاس میں وفاقی پی ایس ڈی پی میں سندھ کے حصے اور ترقیاتی کاموں کےحوالےسےتفصیلی گفتگو کی گئی۔۔ اراکین نے وفاق کی جانب سےاس سال کےبجٹ میں سندھ کےمنصوبوں پررقم کی کمی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔۔ اجلاس کو بتایا گیا وفاق کےپاس فنڈزکی کمی کےباعث ترقیاتی اسکیموں پرکٹ لگائےجاتےہیں۔۔ وفاقی وزیر سیکریٹری کاکہنا تھا کہ اس سال وفاقی بجٹ کے ایک ہزار ارب میں سےسندھ کےمنصوبوں پر ایک سو بانوے ارب روپےمختص کئےوفاقی حکومت اتنےفنڈزمہیانہیں کرپارہی ہےاسی لئےباہرکےمالیاتی اداروں سےفنڈزلینےہوتےہیں۔۔ کراچی کےلئےگریٹرواٹرسپلائی اسکیم کےفورکی طویل مدت سےعدم تکمیل پربھی ارکان نے تشویش کا اظہار کیا۔۔ بتایا کےفورمنصوبےکاپہلامرحلہ دسمبر دو ہزار انتیس میں مکمل ہوسکےگا۔۔ جس سے کراچی کو دو سو ساٹھ ملین گیلن یومیہ ملےگا۔۔سیدعبدالقادرگیلانی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں کراچی میں رکھنےکااصل مقصدسندھ کودرپیش تحفظات کاازالہ کرناہے