یہ واضح بیان ہے کہ سعودی عرب کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے، پاکستان کی فوجی صلاحیتیں سعودی عرب کو دستیاب ہوں گی، وزیردفاع
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سعودی عرب کو ہرممکن مدد فراہم کرنے کا واضح عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کے حملوں سے دفاع کے لیے سعودی عرب کو ہر قسم کے دستیاب وسائل فراہم کریں گے۔
عرب نیوز کو دورہ روم کے دوران انٹرویو میں وزیردفاع خواجہ آصف نے سعودی عرب میں موجود پاکستانی فوجیوں کی فضائی حملوں میں شرکت کے حوالے سے آگاہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی فوجی صلاحیتیں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے نئی دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے لیے دستیاب ہوں گی۔
انہوں نے بتایا کہ میں تفصیل میں نہیں جاؤں گا لیکن جب میں یہ کہتا ہوں کہ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کے دفاع کے پابند ہیں تو اس کا مطلب ہے جو وسائل ہمارے پاس موجود ہیں وہ سب سعودی عرب کے لیے دستیاب ہوں گے اور یہ واضح بیان ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ انہوں نے حوثیوں کے خلاف کیے گئے حملوں میں پاکستان کے شامل ہونے سے متعلق واضح تصدیق نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے کسی قسم کی مدد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیردفاع نے کہا کہ حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں اور یمن میں بحیرہ احمر کے ساحل تک اپنا کنٹرول وسیع کردیا ہے۔
انٹرویو میں خواجہ آصف نے حوثیوں کو جارح قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کے سعودی کو مدد فراہم کرنے کے عزم میں کوئی ابہام نہیں ہے، سعودی عرب کا کوئی بھی دشمن پاکستان کا دشمن ہے، یہ بات بالکل واضح ہونی چاہیے۔
خواجہ آصف نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کے حوالے سے بتایا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تینوں ممالک سیکریٹریٹ قائم کر رہے ہیں اور اتحاد کا فریم ورک تیار ہو رہا ہے جبکہ تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کی تفصلات تاحال جاری نہیں کی گئی ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دیگر ممالک نے بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا ہے لیکن فوری طور پر اس اتحاد میں توسیع کا منصوبہ نہیں ہے۔