قطر کی ایران کو جنگ ختم کرنے کے لیے نئی تجویز، تہران کے جواب کا انتظار

قطری ثالثوں نے اتوار کو ایران کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنے کے لیے ایک نئے مجوزہ معاہدے کا مسودہ پیش کیا ہے۔ مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار کے مطابق، توقع ہے کہ تہران رواں ہفتے کے اختتام تک اس مسودے پر اپنا جواب دے گا۔

عہدیدار نے بدھ کو بتایا کہ ایران کے زیرِ غور نئے مسودے میں سات روزہ مدت مقرر کی گئی ہے، جس کے دوران تہران اور واشنگٹن کے تحفظات دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ منصوبے کے تحت دونوں فریقوں کو اعتماد سازی کے لیے روزانہ کی بنیاد پر مخصوص اقدامات کرنا ہوں گے۔

عہدیدار کے مطابق، اس منصوبے پر عمل درآمد اگلے ہفتے کے آغاز میں شروع ہوسکتا ہے، جبکہ کئی ممالک مجوزہ معاہدے کے ضامن کا کردار ادا کریں گے۔

قطر نے پاکستان کے ساتھ مل کر فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ ختم کرانے کے لیے ثالثی کی کوششوں کی قیادت کی ہے۔ اس تنازع کے باعث عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جبکہ لڑائی کے اثرات مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں تک بھی پھیل چکے ہیں۔

مذاکرات سے باخبر عہدیدار کے مطابق، تہران میں اتوار کو ہونے والی ملاقات سے قبل خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، جو عام انتخابات میں ایک اور مدت کے لیے انتخابی مہم کا سامنا کر رہے ہیں، رواں ہفتے ایران پر دوبارہ حملے شروع کرسکتے ہیں۔

گزشتہ جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران پر دوبارہ حملے کرنے کی دھمکیاں دہرائی تھیں۔

دوسری جانب، ایرانی سیکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو تہران نے خلیجی خطے میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے تفصیلی منصوبے تیار کر رکھے ہیں۔

اس سے قبل ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں جون میں ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا تھا، تاہم وہ معاہدہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا اور جلد ہی ناکام ہوگیا۔

ادھر حالیہ ہفتوں میں یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر بار بار حملے کیے ہیں، جو دنیا میں خام تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔