یمن میں حوثیوں کی بڑی پیش قدمی، المخا پر قبضہ، باب المندب پر خطرات بڑھ گئے

سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جواب دینے کا اعلان کر دیا۔

یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے اور حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے اہم ساحلی شہر المخا پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ریاض نے حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔

برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ کے مطابق حوثیوں نے تعز صوبے میں المخا کے علاوہ حیس شہر اور خطے کے سب سے بڑے فوجی اڈے خالد بن ولید کیمپ پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں کے مطابق ان کی فورسز نے 6 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ علاقے پر پیش قدمی کی ہے۔

المخا بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع اہم بندرگاہی شہر ہے اور آبنائے باب المندب کے قریب اس کی جغرافیائی حیثیت اسے یمن کی جاری جنگ میں غیر معمولی تزویراتی اہمیت دیتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ساحلی پٹی پر حوثیوں کا بڑھتا ہوا کنٹرول بحیرۂ احمر میں عالمی بحری آمدورفت اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرات میں اضافہ کرسکتا ہے۔

’اے ایف پی‘ کے مطابق ایک عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے جنوبی بحیرۂ احمر میں واقع ذُقر جزیرے پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جزیرے پر راکٹ حملوں کے بعد کشتیوں کے ذریعے حوثی جنگجو اتارے گئے اور زمینی کارروائی کی گئی۔

دوسری جانب سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں حوثیوں کے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق خمیس مشیط، ابہا اور جازان کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے گئے۔

سعودی عرب نے ان حملوں کے جواب میں حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ ’گارجین‘ کے مطابق سعودی فوج نے جمعرات کو حوثی اہداف پر تقریباً 40 فضائی حملے کیے، جب کہ 3 سے 7 ستمبر کے دوران کم از کم 15 حملے کیے جا چکے تھے۔

سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ اتحاد کی مشترکہ افواج حوثیوں کے حملوں کا جواب دیں گی۔ ان کے مطابق کارروائی کا مقصد سعودی عرب کی خودمختاری، قومی تنصیبات اور شہریوں کا تحفظ ہے۔

ادھر، حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں کیے گئے حملے یمن میں سعودی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ حوثیوں نے اس سے قبل سعودی توانائی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا جس میں کم از کم 73 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

یمنی حکومتی فورسز کے کمانڈر میجر جنرل طارق صالح نے المخا کے جنوب میں فوجی پسپائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز نے دوبارہ منظم ہونے کے لیے محفوظ مقام کی طرف واپسی اختیار کی۔ ان کے مطابق مغربی ساحلی محاذ پر سرکاری فورسز نے حوثیوں کے حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے جانی نقصان اٹھایا۔

تنازع پر نظر رکھنے والے ادارے ’ایکلیڈ‘ کے مطابق پانچ روز کے دوران لڑائی میں 276 افراد ہلاک ہوئے۔ لڑائی یمن کے دیگر علاقوں، جن میں الضالع، البیضاء، مارب، شبوا، الجوف، حدیدہ اور تعز شامل ہیں، تک بھی پھیل چکی ہے۔

لندن میں قائم دفاعی و سلامتی کے تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ نے خبردار کیا ہے کہ یمن کی صورتِ حال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ ادارے کے مطابق اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ یمنی حکومت حوثیوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئے محاذ کھول رہی ہے، تاہم ملک کے اندر سیاسی تقسیم اور مربوط فوجی ڈھانچے کی کمی حوثیوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق فوری طور پر لڑائی میں کمی کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں اور دونوں فریق ایک دوسرے کو اتنا نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کسی سمجھوتے پر مجبور ہوجائے۔

ایکلیڈ کے یمن سے متعلق تجزیہ کار شیروان ہندرین علی کے مطابق لڑائی بالخصوص حدیدہ اور تعز کے ساحلی محاذوں پر مرکوز رہنے کا امکان ہے، کیونکہ دونوں فریق باب المندب پر مؤثر کنٹرول کے لیے ان علاقوں کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔

حوثیوں کی ساحلی پیش قدمی کو سعودی عرب اور امریکا پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ برطانوی اخبار ’گارجین‘ کے مطابق حوثیوں کا مقصد خلیج میں ایرانی تیل بردار جہازوں پر امریکی ناکا بندی ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

یمن میں موجودہ کشیدگی کا سلسلہ جولائی میں اس وقت مزید تیز ہوا جب حوثیوں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ایران سے واپس پہنچا اور سعودی عرب نے ایرانی طیارے کو حوثیوں کے زیر قبضہ صنعاء میں اترنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد سعودی فورسز نے رن وے پر بمباری کی، جس کے جواب میں حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکا بندی کا اعلان کیا۔

بعد ازاں حوثیوں نے 25 جولائی کو سعودی شہر جازان کی ریفائنری اور 24 اگست کو ینبع کے قریب ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا۔ ’گارجین‘ کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بحری آمدورفت محدود کیے جانے کے بعد سعودی عرب اپنی تجارت کے لیے بحیرۂ احمر کے راستے پر زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔

یمن کی تازہ لڑائی نے عالمی بحری تجارت کے لیے تشویش مزید بڑھا دی ہے۔ باب المندب بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم بحری راستہ ہے، جب کہ آبنائے ہرمز خلیج اور بحر ہند کے درمیان توانائی کی عالمی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ دونوں گزرگاہوں میں بیک وقت کشیدگی سے عالمی تجارت اور تیل کی فراہمی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات عالمی تیل کی منڈی پر بھی پڑ رہے ہیں اور خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہے، جب کہ اس سے پہلے کئی ہفتوں تک قیمت تقریباً 80 ڈالر کے قریب رہی تھی۔

یمن میں حوثیوں کی ساحلی علاقوں کی جانب پیش قدمی، سعودی عرب پر مسلسل حملے اور جوابی فضائی کارروائیوں نے تنازع کے دوبارہ وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہونے کے خدشات بڑھا دیے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں اہم بحری راستے شدید کشیدگی کی زد میں ہیں۔