اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو خفیہ دورے پر گزشتہ روز متحدہ عرب امارات پہنچے تھے
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے قبل اسرائیل کو پیشگی اطلاع دینے سے متعلق خبر کی تردید کریں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق نیتن یاہو اتوار کے متحدہ عرب امارات پہنچے جہاں انھوں نے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔
اس ملاقات میں اسرائیلی اخبار ہارٹز کی رواں ماہ شائع ہونے والی ایک رپورٹ بھی زیرِ بحث آئی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اماراتی صدر نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے کچھ ہی عرصہ قبل اسرائیلی وزیراعظم کو ممکنہ حملے کے خطرے سے آگاہ کیا تھا۔
اے پی کو نیتن یاہو کے دورے سے باخبر ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں اسرائیلی اخبار کی مذکورہ رپورٹ پر بات ہوئی ہے اور نیتن یاہو نے شیخ محمد بن زاید سے اس کی تردید کرنے کی درخواست کی۔
عالمی خبر رساں ادارے نے اس معاملے پر ردعمل لینے کے لیے متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ سے رابطہ بھی کیا تاہم انھوں نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا البتہ یہ کہا کہ اسرائیل کے ساتھ رابطے کے براہِ راست ذرائع موجود ہیں جن کے ذریعے متعلقہ تمام انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔
اے پی نے اس معاملے کی تردید یا تصدیق کے لیے اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے بھی رابطہ کیا لیکن تبصرہ کرنے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا متحدہ عرب امارات کا خفیہ دورہ اتوار 27 ستمبر 2026 کو ہوا تھا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وہ اسی روز ابوظبی پہنچے اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔ تاحال ان کی وطن واپسی سے متعلق کوئی باضابطہ خبر سامنے نہیں آئی۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق نیتن یاہو تقریباً چار گھنٹے امارات میں رہے جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق ان کا مجموعی قیام تقریباً چھ گھنٹے تھا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی اخبار کی اس رپورٹ پر نیتن یاہو نے قانونی کارروائی کرنے کی دھمکی بھی دی تھی تاہم اماراتی صدر کی جانب سے مبینہ پیشگی اطلاع کے دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔