لندن : برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے اسرائیل کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کو ہدف بنانے کا خفیہ منصوبہ سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے۔
تفصیلات کے مطابق برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ کی شہادت کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ نے عالمی سطح پر کھلبلی مچا دی ہے، جس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے برسوں پر محیط اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس آپریشن کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل نے تہران کے تقریباً تمام ٹریفک کیمروں کو برسوں پہلے ہیک کر لیا تھا، ان کیمروں کے ذریعے حاصل ہونے والی تصاویر کو خفیہ کوڈز میں تبدیل کر کے تل ابیب کے سرورز پر منتقل کیا جاتا تھا۔
برطانوی اخبار کا کہنا تھا کہ اسرائیل تہران کی پاستور اسٹریٹ (جہاں اہم حکومتی دفاتر اور رہائش گاہیں ہیں) پر آنے جانے والے ہر شخص، بالخصوص اعلیٰ حکام کے وفادار محافظوں اور ڈرائیوروں پر نظر رکھے ہوئے تھا، اسرائیل کو یہ تک معلوم تھا کہ کون سا اہلکار اپنی ذاتی گاڑی کہاں پارک کرنا پسند کرتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل نے محض جاسوسی نہیں کی بلکہ سوشل نیٹ ورک اینالیسس (Social Network Analysis) نامی ایک پیچیدہ ریاضیاتی طریقہ کار استعمال کیا اور اربوں کی تعداد میں ڈیٹا اکٹھا کر کے ایرانی حکام، ان کے محافظوں، ڈیوٹی کے اوقات اور ان کے گھروں کے پتوں کا ایک مکمل ‘پیٹرن آف لائف’ (معمولاتِ زندگی کا نقشہ) تیار کیا گیا۔
فنانشل ٹائمز نے کہا کہ سرائیلی سگنلز یونٹ اور موساد کے ایجنٹس نے ہزاروں بریفنگز کے ذریعے اس ڈیٹا کو حتمی شکل دی اور پیچیدہ الگورتھمز کی مدد سے یہ بھی پتا لگایا گیا کہ کون سا محافظ کس شخصیت کی حفاظت پر مامور ہے۔