
تحریر : نجم الحسن عارف
(ڈبلو-اے نیوز) یہ سوال بھارت او بھارت کی مودی سرکار ہی نہیں بھارت کی تجارت، سیاسی اور عسکری اشرافیہ کے لیے بھی ایک اہم ترین سوال کی صورت سامنے ہے۔ بھارت کے لیے یہ سوال ایک فطری اہمیت کا حامل سوال ہے۔ جس بھارت نے بنگلہ دیش کو ایک عرصے تک اپنے ماتحت اتحادی کے طور پر ساتھ رکھا۔ اس کی بدولت اپنے مشرق کو محفوظ بنایا۔ تجارتی و سیاسی حتیٰ کہ دفاعی ترجیحات میں اپنے لیے مفید بنایا۔ اس میں اب بہترین بھارتی اتحادی حسینہ واجد کی حکومت ہے نہ سیاسی مستقبل اسے لامحالہ دوسری آپشن پر سوچنا ہے۔
بھارت میں یہ فکرمندی طارق رحمان کے لیے مثبت بھی ہو سکتی ہے اور منفی بھی۔ مثبت اس طرح کہ بھارت کے حامی ووٹر 12 فروری کو طارق رحمان کی جھولی میں بغیر کسی اضافی محنت کے آگریں گے اور طارق رحمان عملا حسینہ ٹو بن کر خود حکمران بنیں گے اور بھارت کے لیے بنگلہ دیش پھر سے عقبی صحن بن جائے گا۔
مگر منفی پہلو یہ ہے کہ بھارت اب بنگلہ دیش میں دوستی کا استعارہ نہیں ہے۔ دشمنی کا دوسرا نام ہے۔ خصوصا بنگلہ دیش کی نئی نسل نے اس سبق کو حالیہ کچھ عرصے میں بہت تیزی سے اور اچھی طرح ازبر کر لیا ہے۔ اگر بنگلہ دیش میں ‘ہوا بھون’ کی شہرت رکھنے والے طارق رحمان کے بارے میں بنگلہ دیشی نوجوانوں کو علم ہوگیا کہ طارق رحمان ‘حسینہ ٹو’ بننے جا رہے ہیں تو 20 سے 35 سال کی عمر کے بنگالی شہری اور ووٹر سیدھا سیدھا طارق رحمان کو اپنے دوست، خیر خواہ یا حکمران کے طور پر قبول نہیں کر سکیں گے۔ یوں 12 فروری کا ووٹ طارق رحمان کے حق میں نہیں ڈالیں گے۔
اس لیے لازم ہے کہ طارق رحمان اور بھارت نے جس حکمت عملی کے تحت اب تک اس خواہش اور کوشش کو ڈھکے چھپے انداز میں جاری رکھا ہے۔ اگلے چند دن بھی یہ اخفائی تعلق ہی برقرار رکھیں۔
طارق رحمان کے لیے بھارت کی حمایت جہاں کسی قدر خفیہ ہو سکتی ہے وہیں خود طارق رحمان کے لیے کچھ اپنے ماضی، شناخت اور بیانیے کے حوالے سے حائل چیلنج کی سطح کو چھو رہے ہیں۔
اہم ترین چیلنج وہ ‘سٹیٹس کو’ اور موروثیت کی سیاست کی علامت بن کر سامنے آرہے ہیں۔ خصوصا جب وہ اپنی جماعت ‘بی این پی’ کو ایک تجربہ کار جماعت کے طور پر بیان کرتے ہیں تو ان کے دماغ میں جنرل ضیاء الرحمان اور خالدہ ضیاء الرحمان کے ادوار ہوتے ہیں۔ ان میں جنرل ضیاء الرحمان کا مارشل لاء اور خالدہ ضیاء کے دور کی کرپشن کا جھوٹا یا سچا سب سے اہم حوالہ خود طارق رحمان ہیں۔
‘ہوا بھون’ کی اصطلاح طارق رحمان کے حوالے سے ہی گھڑی گئی تھی کہ ایک ایسا شخص جو رکن پارلیمنٹ رہا نہ وزیر نہ مشیر مگر حکومتی فیصلوں ہی نہیں ٹھیکوں، کرپشن اور مال بنانے میں مبینہ طور پر اہم سمجھا جاتا رہا۔ طارق رحمان کو اس پر فوکس نہیں رکھنا چاہیے تھا کہ ‘بی این پی’ ایک تجربہ کار جماعت ہے۔ اس تجربے سے مخالفین ان کی جماعت کی کرپشن کی کہانیاں نکال لائیں گے یا کم از کم انہیں یاد آجائیں گی کہ 2001 اور 2005 کے دورانیے میں بنگلہ دیش ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کے بقول کرپٹ ترین ملک بن گیا تھا۔
ان کے وزارت عظمیٰ تک پہنچنے میں ایک چیز جسے رکاوٹ بنایا جا رہا ہے وہ یہ بھی ہے کہ جس تجربے کی بات طارق رحمان کر رہے ہیں وہ ان کے پاس پارلیمنٹ یا حکومت کا عہدیدار رہنے کے طور پر ہرگز نہیں۔
طارق رحمان کے لیے دوسرا مسئلہ جو ان کے مخالفین اعتراض کے طور پر ایکسپلائٹ کر رہے ہیں وہ ان کا موروثی طرز سیاست کا حوالہ بننا ہے۔ حسینہ واجد اور ان میں یہ قدر مشترک کہی جاتی ہے۔ یقیناً جب بنگلہ دیش کے نوجوانوں کی اکثریت ‘سٹیٹس کو’ کے خلاف ہے تو موروثیت کو کیونکر قبول کر سکتے ہیں۔
لہذا جو باقی بچتا ہے وہ اس الزام کی صورت ہے کہ اس دور میں جتنی کرپشن ہوتی تھی اس کے تجربے کا بوجھ طارق رحمان کے سر پر ہے۔ اگرچہ اس کے کاغذی ثبوت موجود نہیں کیونکہ وہ وزیر مشیر ہونے کی وجہ سے کسی فائل پر دستخط نہیں کر سکتے تھے صرف زبانی احکامات دینے کا اختیار و رجحان رکھتے تھے۔ اسی بارے میں واقعاتی کہانیاں مشہور رہیں۔
ایک اعتراض جو طارق رحمان کے لیے چیلنج بن سکتا ہے انہیں اس کا بھی توڑ کرنا ہوگا کہ چین کے ساتھ اور پاکستان کے ساتھ حالیہ عرصے میں بنگلہ دیش کی بڑھنے والی قربت ہے وہ طارق رحمان کو ‘حسینہ ٹو’ بنانے کے خواہش مند بھارت کے لیے قطعا قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ یہ تو بنگلہ دیشی خودمختاری کے خلاف ہوگا اور پھر سے بھارتی ماتحتی قبول کرنے کے مترادف ہوگا۔
ایک اعتراض جس کا جواب یقینا طارق رحمان کے طور پر بوجوہ دینے سے قاصر ہیں مگر ان کے معترفین یہ اعتراض بہرحال رکھتے ہیں کہ اگر طارق رحمان برسر اقتدار آگئے تو سب سے پہلا ہدف بنگلہ دیش کے ہی انقلابی نوجوان بنیں گے جو حسینہ واجد کو اقتدار سے نکالنے کا باعث بنے ہیں۔ بلاشبہ طارق رحمان کے لیے بھی سب سے زیادہ طاقتور اور منظم چیلنج یہ نوجوان بن سکتے ہیں۔ اس لیے نوجوانوں کی طاقت کو تحلیل کرنا سب سے مقدم سمجھیں گے۔
اعتراض کرنے والے یہ بھی خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ طارق رحمان کے آنے سے جس شخصیت کو سب سے زیادہ فائدہ اور ریلیف ملے گا وہ حسینہ واجد ہو سکتی ہیں کہ ان کے حامیوں کی مدد کے ساتھ ہی طارق رحمان کے اقتدار کا دروازہ کھلتا ہے اور بھارت بھی فوری طور پر کچھ اقدامات ممکن بنانا چاہے گا تاکہ بنگلہ دیش کی سیاست میں آنے والا انقلابی ریلا جلد سے جلد پیچھے دھکیلا جا سکے۔ اس لیے طارق رحمان کو وزارت عظمیٰ کا خواب پورا کرنے اور اپنے والدین کی میراث حاصل کرنے کے لیے ان اعتراضات کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
بصورت دیگر 12 فروری کا فیصلہ ان کی مرضی کا ہونا مشکل ہے کہ انقلابی نوجوانوں کا سیاسی پلیٹ فارم پہلے ہی اپنا وزن جماعت اسلامی والے اتحاد کے پلڑے میں ڈال چکا ہے۔ یہ وزن محض ووٹوں کی حسابی جمع تفریق کا باعث نہ بنے گا بلکہ یہ اپنے اثرات اور سیاسی لہر کو تو ضرب تقسیم کی طرح بڑھائے اور کم کرے گا۔ یہ ضرب جماعت اسلامی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے حق میں جائے گی اور تقسیم طارق رحمان اور اس کے حامیوں کے خلاف اپنا اثر دکھائے گی۔ جس کا توڑ طارق رحمان اور بھارت نواز ہندو ووٹر کو فوری کرنا ہوگا۔
وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ یہ چیز اس چیلنج سے نمٹنے کو اور بھی مشکل بناتی ہے کہ طارق رحمان کے 17 سال بنگلہ دیش کے زمینی حقائق سے دور گزرے ہیں۔ ان سترہ برسوں میں ووٹرز کی پوری ایک نسل تیار ہو کر سامنے آگئی ہے۔ جو نئی بھی ہے اور نوکیلی بھی جسے آج کل دنیا ‘جنریشن زی’ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ بلاشبہ اس جنریشن زی کا خاتمہ وزیر اعظم بننے کے بعد طارق رحمان کی متوقع اسائمنٹ بھی ہوگی اور ذمہ داری بھی۔