امریکہ ایران کشیدگی، ایران کو زہر کا پیالہ پینا ہو گا؟ یا خودکشی کرنا ہو گی؟

تحریر : رغدہ درغام

(ڈبلو-اے نیوز)  اگر ایرانی مراعات صدر ٹرمپ کی توقعات پر پورا اترنے والی ہوئیں تو اس کے لیے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ایک بیانیے کی تیاری کرنا ہو گی۔ جس کے تحت وہ اپنے حلقہ اثر اور پیروکاروں کو قائل کریں کہ انہیں اس بات پر مجبور کر دیا گیا ہے کہ اپنے اسلامی جمہوریہ کو بچانے کے لیے زہر کا پیالہ پینا قبول کر لیں جیسا کہ روح اللہ خمینی نے چار و ناچار عراق کے ساتھ جنگ بندی قبول کر لی تھی۔

یہ رعائتیں جو ایران کو قبول کرنا ہوں گی اہمیت کی حامل ہوں۔ پر مغز ہوں گی اور حقیقی ساختہ اور مکمل ہونی چاہیئیں نہ کہ ادھوری یا ناقص ہوں۔ اس سلسلے کا آغاز ایرانی جوہری پروگرام کی فائل سے ہو گا۔

لیکن واضح رہنا چاہیے کہ ایران اپنے میزائل پروگرام کو بچا نہیں پائے گا نہ ہی اپنی علاقائی پراکسیز کو بچانا اب ایران کے لیے ممکن ہو گا۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایران کو ان پراکسیز کی پرورش کے اپنے اور گہرے تجربے کو عارضی طور پر روکنا پڑے۔ اگر یہ سمجھوتہ عمل میں نہیں آتا تو پھر یہ ہو گا کہ کم از کم لبنان میں حزب اللہ کو ایک بار پھر اسرائیلی فوج کے ہاتھوں کچلے جانے کا موقع بہم جائے گا۔ یہ سب حزب اللہ کو برداشت کرنا ہو گا۔ جیسا کہ اسرائیل بھی سمجھتا ہے کہ اسے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں کیا کرنا ہے۔

صدر ٹرمپ بیک وقت سفارتی حوالے سے تیار کردہ اپنے منصوبہ سے اور فوجی قوت کے استعمال کے لیے متبادل منصوبہ کی بھی تیاری میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جانب امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کیے ہوئے ہے تو دوسری جانب علاقے میں امریکی فوجی کیل کا نٹے سے لیس افواج کی از سر نو تعیناتی کی گئی ہے۔

کیا امریکہ و ایران کے درمیان معاہدہ ممکن ہو جانا چاہیے۔ بہرحال اس سلسلے میں ایران کے ساتھ ایک مشکل سودے بازی کا آغاز ہو گا تاکہ اس پر سن سیٹ کلاز کے تحت جوہری پروگرام کو بند کرنے کے لیے دباؤ ہو اور اس سے اس سلسلے میں وعدہ لیا جا سکے۔

اس کے بدلے میں ایرانی مطالبہ ہو سکتا ہے کہ واشنگٹن سنیپ بیک میکانزم کے تحت ایران پر عائد کردہ پابندیوں کو واپس لے۔ جو ایک خودکار طریقے سے پابندیاں عائد کرنے کا نظام ہے۔

اس اتفاق کے بعد یورینیئم افزودگی کی سطح اور افزودہ یورینیئم کے ذخائر سے متعلق بات چیت شروع ہو گی۔ تاکہ ضروری امور طے پا سکیں۔ لیکن صدر ٹرمپ کسی بھی صورت صدر اوباما کی طرح ایرانی جال میں پھنسنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی وہ ایک دوسرا اوباما بننا چاہیں گے۔

جب اسرائیلی وزیر اعظم نے واشنگٹن کا دورہ کیا تو وہ انٹیلی جنس حکام سے کافی بریف ہو کر گئے تھے۔ تاکہ امریکی صدر سے ایران پر فوجی حملے کے لیے اصرار کر سکیں اور اب اس حملے میں دیر نہ کی جائے۔ یہ وہ لمحہ جب ایرانی قیادت ہل کر رہ گئی تھی اور بے چین نظر آنے لگی تھی۔

نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات میں اپنے اس استدلال پر بھی اصرار کیا کہ ایرانی میزائل پروگرام اور پاسداران انقلاب سے جڑی ہوئی پراکسیز کو بھی روکا جانا ضروری ہے کیونکہ یہ اسرائیلی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

اس موقع پر نیتن یاہو نے ایران کے اہم اداروں کی نشاندہی کرنے والے بعض نقشے بھی دکھائے۔ ان کے پاس اسرائیلی اینٹیلی جنس کے حوالے سے ایران کے اندر تک گہری معلومات تھیں جو امریکہ کے اس خوف اور پریشانی کو کم کرنے کے لیے تھیں کہ ایران پر حملے کے نتائج کیا کیا ہو سکتے ہیں۔

نیتن یاہو نے ملاقات میں صدر ٹرمپ کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ ایران پر فضائی حملوں کے بعد زمین پر فوج اتارنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اسرائیل اس چیز کو بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہے کہ تہران میں موجودہ رجیم کے خاتمے کے بعد کوئی متبادل قیادت موجود نہیں ہے۔ اس لیے ایرانی رجیم کو گرانے سے گریز کرنا چاہیے۔

امریکہ و تل ابیب اس سلسلے میں علامتی شخصیات پر توجہ مرکوز نہیں کر رہے کہ سابق ایرانی شاہ کا بیٹا بھی موجود ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ رجیم کے خاتمے کے بعد شاہ کا بیٹا اور ایرانی معاشرہ امکانی طور پر صورتحال کو سنبھال سکے گا۔

اس جمع تفریق کا انحصار روایتی فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ ان امکانات پر ہو گا کہ رجیم کے خاتمے کے بعد کیا صورتحال پیدا ہوتی ہے اور کسی بے چینی و بد عملی کو پیدا ہونے سے کیسے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے لیے اداراتی سطح پر ہم آہنگی کی کیا شکل بنتی ہے اور وہ سویلین لیڈرشپ جو مظاہروں کے نتیجے میں ممکنہ طور پر ابھر سکتی ہے کس حد تک اس مشکل اور عبوری صورتحال کو سنبھالنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتی ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا اصرار یہ رہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاملات میں صرف جوہری پروگرام کو ہی ترجیح رکھنا چاہیے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے سلسلے میں معاہدہ ہونے کے بعد ایران کو یہ کہنا کہ ایرانی معاملات ایرانی عوام سے متعلق ہیں اس لیے وہ خود ہی ان سے عہدہ برآ ہوں ایک اچھی خوش گفتاری اور میٹھے بول کی صورت ایرانیوں کو رام کرنے کا باعث بنے گی۔ جس سے یہ تاثر ابھرے گا کہ امریکی انتظامیہ ایرانی رجیم کی تبدیلی نہیں چاہتی بلکہ اس کے بدلے میں اس کی توجہ جوہری پروگرام پر ہے۔

نائب صدر کی یہ سوچ اپنی جگہ اہم ہے مگر یہ صدر ٹرمپ کو روک سکنے والی نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کے پاس کھلا ماحول ہے کہ وہ اپنے انداز کی کوشش کر سکے اور ایک تزویراتی ابہام کے ماحول میں سفارتی مذاکرات کے دوران الٹی گنتی کا عمل بھی شروع ہو سکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اس سلسلے میں جس کیمپ کی قیادت کر رہے ہیں وہ ایران پر فوجی حملے کو جلدی دیکھنا چاہتا ہے نہ کہ تاخیر سے۔ یہ کیمپ نہیں چاہتا کہ امریکی صدر ایسی شہرت حاصل کریں جو پسپائی اور دوغلے پن کی ہو۔ اس تناظر میں ایک نمایاں تعداد میں فوج اور انٹیلی جنس حکام کی تعیناتی کے ہوتے ہوئے یہ تذویراتی حماقت ہو گی کہ اس کھڑکی کو بند کیا جائے۔

یہ کیمپ اپنے آپ کو صرف جوہری پروگرام کے ڈوزیئر تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔ بلکہ یہ چاہتا ہے کہ ایران کے بیلیسٹک میزائل پروگرام کو روکا جائے اور اس کی پراکسیز کا خاتمہ کیا جائے۔ کیونکہ صرف اسی صورت میں اسرائیل کو سلامتی کی ضمانت مل سکتی ہے اور ایران کے اندر جاری جبر کا سلسلہ رک سکتا ہے۔

ایک گہری تزویراتی سطح پر تیل سے متعلق اعداد و شمار اور تخمینے عالمی سطح پر امریکی غلبے کی توجہ کا مرکزی نقطہ ہیں۔ کیونکہ اسی صورت میں چین کی طرف سے معاشی چڑھائی کو روکنے کی صورت ہو سکتی ہے۔ ایرانی پراکسیز کا سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ انہیں سب سے پہلے لبنان میں روکنے کا آغاز کیا جانا ہے۔

تہران کے لیے دو آپشنز کا چیلنج

مذاکراتی افہام و تفہیم کے ذریعے ایرانی رجیم اور حزب اللہ کو بچالے۔ دوسری آپشن یہ ہے کہ حزب اللہ کی قربانی دے اور سمجھوتہ کرنے سے انکار کر کے فوجی تباہی کی راہ آسان کر دے۔

ایرانی قائدین جانتے ہیں کہ ان کی پراکسیز کی قسمت مشکل سے دوچار ہے۔ ایک جزوی اور خوش انتظامی سے کی گئی پسپائی مقامی سطح پر فریم کی جا سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے یہ ایک تکلیف دہ عمل ہو لیکن یہ ضروری ہے کہ بچاؤ کے اقدامات کیے جائیں۔ ایک اور شکل یہ ہو سکتی ہے کہ ایرانی رجیم زہر کے پیالے کے لیے تیار رہے۔

ادھر عراق میں امریکی انتظامیہ نور المالکی کی اقتدار میں واپسی کو روکنے کی کوشش میں ہے۔ اس کے لیے سیاسی انجینئرنگ کا کام جاری ہے کہ عراق میں اندرونی سطح پر ایسے انتظامات ہو سکیں کہ واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی نہ پیدا ہو اور وسیع تر مقاصد حاصل ہو پائیں۔

یمن میں فوجی آپریشنز اور سفارتی دباؤ کے امتزاج پر مبنی کوششیں جاری ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ حوثیوں کو روکنے اور ان کی صلاحیتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں ہے۔جبکہ اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کے پانیوں میں بھی اور بحیرہ احمر میں بھی صورتحال بحرانی ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال ایران کے علی خامنہ ای کو ایسا موقع فراہم کرنے والی ہیں کہ وہ رعایتوں کو جائز ثابت کر سکیں۔

جہاں تک حماس کا تعلق ہے یہ فائل بڑے زوردار طریقے سے ایرانی ہاتھ سے گر چکی ہے۔ اب غزہ میں آپریشنل کنٹرول ایرانی ہاتھ میں نہیں رہا اور نہ ہی غزہ ایران کے لیے تزویراتی ترجیح کے درجے پر باقی ہے۔ حتیٰ کہ ایرانی بیانیے میں بھی اس کا ذکر کم ہو چکا ہے۔

ہم اس وجہ سے ایک دوراہے پر کھڑے ہیں۔ رعایتوں پر مبنی ایسی زبان جو ایران کی خلاصی کرنے کا باعث بنے گی اور جنگی زبان جو اس کی خود انہدامی کا سبب ہوگی جو اسرائیلی و امریکی حملوں کو دعوت دینے کا باعث بنے گی۔

رعایتوں کا دینا ایران کے لیے رجیم کے تسلسل اور بچاؤ کی صورت پیدا کرے گا۔ لیکن اس کے لیے لازم ہوگا کہ خامنہ ای بھی خمینی کی طرح زہر کا پیالہ پینے کی روایت کو آگے بڑھائیں اور ایران کے لیے قربانی پیش کریں نہ کہ اپنی رجیم کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔ اس کے بدلے میں اقتصادی میدان میں ایران کو ایسا ریلیف میسر آسکتا ہے جو ایرانیوں کو نئے سرے سے بحال ہونے کا موقع فراہم کر سکے۔

تاہم ایرانی قیادت تزویراتی تاخیری حربے جاری رکھ کے مذاکرات کو لمبا کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فوجی کارروائی کرنا نہ صرف صاف ممکن ہو جائے گا بلکہ امکانی طور پر یہ ہفتوں یا محض دنوں کی بات رہ جائے گی۔

ٹرمپ کے پاس سفارتی کوشش کے لیے تھوڑا ہی وقت اور تحمل باقی رہ گیا ہے اوروہ قطعا کوئی غیر معینہ طوالت پر مبنی سفارتکاری برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ خاص طور پر جب انہیں امریکہ میں انتخابی حرکیات سے بھی نمٹنا ہے۔ اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ نظر آسکنے والے نتائج جلد ان کے ہاتھ میں ہوں۔

ایران کے لیے بھی یہ موقع ہے کہ وہ سنجیدگی ظاہر کرے۔ کیونکہ ایران کی طرف سے تاخیر کو حکومتی حربہ سمجھتے ہوئے فطری نتیجہ حملے کی صورت ہوگا۔ شاید اس سے بھی پہلے جو عوامی سطح پر عام طور پر اندازہ کیا جاتا ہو۔

ممکن ہے کہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کردار تقسیم کر دیے گئے ہوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نیتن یاہو کے دورہ امریکہ سے یہ فائدہ ہو کہ وہ کسی فوری حملے کی یقین دہانی لے کر نہیں گئے۔ نیتن یاہو کے دورے سے صدر ٹرمپ کو انٹیلی جنس بریف ملا ہے جو انہوں نے اپنے انٹیلی جنس اداروں کے سامنے جائزے اور اندازے کے لیے رکھ دیا ہے کہ وہ اس جائزے کے کھاتے میں صدر ٹرمپ کے لیے کچھ وقت حاصل کر سکیں۔ یوں انہیں تھوڑی سی تاخیر کر کے ایران کی خوشی بھی حاصل ہوئی ہے۔

اس دوران ان کے پاس پورا موقع ہے کہ وہ ایک طرف اپنی پوری فوجی تیاری کو حاصل کر سکیں اور دوسری طرف اسرائیلی و انٹیلی جنس کو امریکی پلاننگ کے ساتھ مربوط بنا سکیں۔

موجودہ حالات کو سفارتی اور فوجی تیاریوں کے حوالے سے ایک پے در پے کوشش کی صورت دیکھا جا سکتا ہے جس کے پیچھے الٹی گنتی کا آغاز ہوچکا ہے اور ایران کے خلاف فوجی آپشن بھی اپنی جگہ پاچکی ہے۔

مشرق وسطیٰ اور خلیجی ریاستوں نے ہر دو صورتوں میں ایک زوردار انتباہ کیا ہے کہ ایران پر حملہ ہونے کے بعد کامیاب ہو یا ناکام دونوں کے مضمرات موجود ہوں گے۔

اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی جوہری پروگرام اور باقی معاملات میں قابل قدر کامیابی کے بغیر پیچھے ہٹ گئے تو ان کی تشویش یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران زیادہ حوصلہ مندی پکڑ کر ایک مور کی طرح اپنے پر پھیلا سکتا ہے۔