کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش، جھڑپوں میں 9 افراد جاں بحق، 35 زخمی

ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے خلاف مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرے میں فائرنگ سے 9 افراد جاں بحق اور 40 سے زائد جاں بحق ہو گئے، اسلام آباد اور لاہور میں بھی امریکی قونصلیٹ کے باہر احتجاج کیے گئے۔

ایران پر امریکی و اسرائیلی حلموں کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے خلاف گزشتہ روز مختلف اہل تشیع تنظیموں کی جانب سے احتجاج کا اعلان کیا گیا، اسی تناظر میں اتوار کو اہل تشیع تنظیموں کے کارکنان نے بڑی تعداد میں مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے کے باہراحتجاج کیا اور احتجاج کے دوران مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کے مرکزی دروازے سے داخل ہونے کی کوشش کی اور توڑ پھوڑکی۔

اس دوران پولیس کی بھری نفری بھی موقع پرپہنچ گئی، ہنگامہ آرائی  کے دوران فائرنگ سے متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر ایدھی فاؤنڈیشن اور چھیپا ایمبولینسوں کے ذریعے سول ٹراما سینٹرمنتقل کردیا گیا۔

احتجاجی مظاہرین کی جانب سے وقتاً فوقتا پولیس پر شدید پتھراؤ بھی کیا جاتا رہا جس پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کرکے مظاہرین کو منشتر کرنے کی کوشش بھی کی گئی، پولیس نے احتجاجی مظاہرین کو مائی کلاچی روڈ سے ایم ٹی خان روڈ پر پیچھے دھکیل دیا۔ اس دوران کراچی پولیس چیف آزاد خان بھی پولیس کی نفری کے ہمراہ امریکی قونصلیٹ پہنچے۔

مظاہرین کی جانب سے مبینہ طور پر سلطان آباد پُل کے نیچے کنٹینر میں قائم سلطانہ آباد ٹریفک پولیس چوکی اور مختلف مقامات پر 2 سے زائد موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی گئی۔ اس دوران شہر کے تینوں زونز اور تمام اضلاع سے پولیس کی اضافی نفری طلب کرلی گئی جس پر ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ اور ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجارا پنے اپنے اضلاع کے ایس ایس پیز امجد شیخ، عارف عزیز، مہروز علی ، طارق مستوئی  سمیت دیگر پولیس افسران ایس ایچ اوز کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔

مائی کلاچی روڈ اورایم ٹی خان روڈ پر پولیس اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں جس کے باعث مائی کلاچی روڈ اور ایم ٹی خان روڈ میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا، علاقہ وقتاً فوقتاً آنسو گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ سے گونجتا رہا۔

احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے دوران متعدد پولیس موبائلوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے، کئی پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔

سول اسپتال ٹراما سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر صابر میمن نے ایکسپریس کو بتایا کہ امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرے اور فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق 8 افراد کی لاشیں سول ٹراما سینٹر لائیں گئیں جبکہ ایک زخمی دوران علاج دم توڑ گیا، مجموعی طور پر 40 افراد کو زخمی حالت میں سول اسپتال لایا گیا، دو شدید زخمی افراد کی حالت تشویش ناک ہے، تمام افراد گولیاں لگنے سے جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

فائرنگ سے جاں بحق افراد کی شناخت کرلی گئی ان میں 23 سالہ کاظم ، 26 سالہ مبارک، 25سالہ عدیل، 25 سالہ عباس، 25 سالہ ساجد علی، 20سالہ خاورعباس، 23 سالہ محمد علی، 35 سالہ قاسم عباس اور 25 سالہ عامر سہیل شامل ہیں، جاں بحق افراد کی لاشیں ایدھی ایمبولینس کے ذریعے نمائش کے قریب امام بارگاہ منتقل کردی گئیں۔

آخری اطلاعات تک احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے شام تک جاری رہا، ادھر ٹریفک پولیس کی جانب سے مائی کلاچی اورایم ٹی خان روڈ پر اجتجاج کے باعث دونوں سڑکوں کو عام ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا اور ٹریفک پولیس کی جانب سے متبادل راستوں کا اعلان بھی کیا گیا۔

ٹریفک پولیس کے مطابق جناح برج سے آنے والی ٹریفک کو آئی آئی چندریگر روڈ کی طرف بھیج رہے ہیں، بوٹ بیسن سے آنے والی ٹریفک کو مائی کو لاچی پھاٹک سے یوٹرن دےکر واپس بھیج رہے ہیں رہے ہیں، پی آئی ڈی سی سے آنے والی ٹریفک کو پارک کٹ سے واپس بھیج رہے ہیں، پی آئی ڈی سے آنے والی ٹریفک کو کلب روڈ کی طرف بھیج رہے ہیں اور اسٹیٹ لائف کی طرف سے آنے والی ٹریفک کو بی اماؤنٹ کی طرف بھیج رہے ہیں۔

پی آئی ڈی سی سے سلطان آباد جانے والی ٹریفک کو شاہین چوک کی طرف بھیج رہے ہیں دوسری جانب نمائش چورنگی جانے والے راستے ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے ہیں جبکہ ٹریفک پولیس کے مطابق شہریوں کو متبادل راستے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

ٹریفک پولیس کے مطابق 45 کانگریس سے آنے والی ٹریفک کو پی پی چورنگی کی طرف بھیج رہے ہیں اور سوسائٹی سے آنے والی ٹریفک کو کشمیرروڈ کی طرف اور کیپری سگنل سے آنے والی ٹریفک کو صدر دواخانہ اور ناصرہ اسکول کی طرف ڈائیورشن دی گئی ہے۔

لاہور:

لاہور میں بھی مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کے باہر توڑ پھوڑ کی، پولیس نے مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ جانے کی کوشش ناکام بنا دی۔ مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ کے سامنے لگائے سکیورٹی کیمپ بھی اکھاڑ دیے۔

مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ شملہ پہاڑی کے باہر دھرنا دے دیا۔ احتجاج میں نوجوانوں، خواتین و بچوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ خواتین نے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی ہیں۔

امریکی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین کو روکنے کےلئے کنٹینرز کھڑے کردیے گئے۔ پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ رینجرز کے دستے بھی پہنچ گئے ہیں۔

اسلام آباد:

ایران پر امریکی حملے کے خلاف اسلام آباد کے ریڈزون میں بھی احتجاج کیا گیا، مظاہرین ڈپلومیٹک انکلیو کے باہر تک پہنچ گئے جس پر پولیس نے شدید شیلنگ کی۔

ایران کے سپریم لیڈر کی موت کی خبر سن کر شیعہ علما کونسل کی کال پر ہزاروں مظاہرین آبپارہ چوک میں جمع ہوئے اور امریکی سفارت خانے کے سامنے جاکر احتجاج کرنے کا اعلان کیا، پولیس کی بھاری نفری اور کنٹینر رکھ کر ریڈزون کو سیل کیا گیا تھا تاہم مظاہرین پولیس پر پتھراؤ کرتے  ہوئے نہ صرف ریڈ زون میں گھس گئے بلکہ ڈپلومیٹک انکلیو کے گیٹ تک پہنچے۔

مظاہرین نے شدید نعرے بازی کی اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا، پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی گئی۔ بکتر بند گاڑیوں سے شیلنگ کرتے ہوئے پولیس نے مظاہرین کو دوبارہ آبپارہ چوک تک پیچھے دھکیل دیا۔

وزیر داخلہ  محسن نقوی نے ریڈ زون کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا آج امت مسلمہ، ایران اور پاکستان کے عوام کے لئے سوگوار دن ہے، آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان کا ہر شہری اسی طرح غمزدہ ہے جس طرح ایران کے شہری غم کی کیفیت سے دوچار ہیں، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں، شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں، اپنا احتجاج پرامن انداز میں ریکارڈ کرائیں۔

بعدازاں سیرینا چوک احتجاج ختم ہوگیا، پولیس نے تمام مظاہرین کو منتشر کردیا اور اسلام آباد کے سیرینا چوک میں ٹریفک کی روانی بحال ہوگئی۔