آئی ایم ایف توانائی سبسڈی

آئی ایم ایف کا توانائی شعبے میں سبسڈی 1186 ارب سے کم کرکے 830 ارب مقرر کرنے پر زور

حکومت نے گردشی قرضے میں کمی، بجلی و گیس کے ٹیرف میں بروقت اضافے کی یقین دہانی کرا دی

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے توانائی شعبے میں سبسڈی میں نمایاں کمی پر زور دیا ہے۔

آئی ایم ایف نےآئندہ مالی سال کے لیےتوانائی شعبے کی سبسڈی کو 1186 ارب روپے سے کم کر کے 830 ارب روپے تک محدود کرنے کی تجویز دی ہے،حکومت نے گردشی قرضے میں کمی، بجلی و گیس کے ٹیرف میں بروقت اضافے کی یقین دہانی کرا دی

آئی ایم ایف نےبجلی کےشعبےمیں بڑھتے ہوئےگردشی قرضے پرقابو پانے،بجلی چوری اور لائن لاسز میں کمی لانےپربھی زوردیا،اس کےساتھ ساتھ حکومت نےتقسیم کارکمپنیوں کی نجکاری یانجی انتظام میں منتقلی کامنصوبہ بھی شیئرکیا ہے،جسے 2027 کے اوائل تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔


سبسڈی صرف زرعی ٹیوب ویلز،قبائلی علاقوں کے واحبات تک محدود رکھنے کی تجویز ہے،حکومت نے اگلے مالی سال گردشی قرضےکا بہاوصفرپرلانےکی یقین دہانی کرادی،آئی ایم ایف نے 2031 تک پاورسیکٹر گردشی قرض کومکمل ختم کرنےپرزوردیا،توانائی شعبے کو دی جانے والی سبسڈی میں بتدریج کمی کا مطالبہ کیا،حکومت نے توانائی کے شعبے کی بہتری اور اصلاحاتی پیکیج پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرادی۔