ایک پائلٹ نے مبینہ طور پر اپنے ساتھی پائلٹ پر چاقو سے حملہ کیا اور بظاہر طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش کی
دبئی سے تل ابیب جانے والی مسافر پرواز میں دورانِ پرواز ایسا خوفناک واقعہ پیش آیا جس نے طیارے میں سوار مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ایک پائلٹ نے مبینہ طور پر اپنے ساتھی پائلٹ پر چاقو سے حملہ کیا اور بظاہر طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ پرواز کے دوران طیارہ اچانک تقریباً سترہ ہزار فٹ نیچے آگیا۔
پرواز کے اعداد و شمار کے مطابق بلندی میں یہ غیرمعمولی کمی دو منٹ سے بھی کم وقت میں ہوئی جس کے بعد طیارے کا رخ تبدیل کرکے اسے سعودی عرب کے شہر تبوک کی طرف لے جایا گیا۔
طیارے میں موجود ایک مسافر کے مطابق واقعے کے دوران مسافروں کو شدید چیخ و پکار سنائی دی۔ مسافر کا کہنا تھا کہ چند افراد کاک پٹ کی طرف بڑھے اور وہاں موجود حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد کی۔
بعض مسافروں کے مطابق صورتحال اس قدر سنگین تھی کہ انہیں محسوس ہوا جیسے طیارے کا کنٹرول خطرے میں پڑ گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایک پائلٹ نے اپنے ساتھی کو چاقو مارنے کے بعد بظاہر طیارہ گرانے کی کوشش کی۔
ان کے مطابق مسافروں اور عملے کی کارروائی سے ایک بڑے سانحے کو روکا گیا۔ حملہ کرنے والے پائلٹ کو سعودی حکام نے گرفتار کرلیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق مسافروں اور عملے کی فوری کارروائی نے طیارے کو مستحکم رکھنے اور ایک بڑے سانحے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سعودی حکام کے مطابق دونوں پائلٹ زخمی ہوئے اور انہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ طیارے میں سوار تمام مسافروں کے محفوظ ہونے کی تصدیق بھی کی گئی ہے۔
ابتدائی اطلاعات میں واقعے کو طیارہ ہائی جیک کرنے کے بجائے پائلٹوں کے درمیان پیش آنے والا سنگین تنازع قرار دیا گیا ہے۔
اسرائیلی حکام واقعے کو ممکنہ دہشت گرد حملہ سمجھ کر بھی تحقیقات کر رہے ہیں تاہم حملے کی حتمی وجہ اور پائلٹ کی نیت ابھی تحقیقات کا حصہ ہیں۔
ابتدائی اطلاعات میں پائلٹوں کی شناخت اور واقعے کی بعض تفصیلات بھی مختلف انداز میں سامنے آئی ہیں اس لیے حکام کی حتمی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔\
تاہم اسرائیلی حکام پائلٹ کے مبینہ اقدام اور اس کی ممکنہ وجہ سمیت تمام پہلوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔