
تحریر: پروفیسر سید ملازم حسین بخاری
بھارت میں نیپاہ وائرس کے کیسز رپورٹ ہوہے ہیں لیکن پاکستان میں اس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا لیکن موجودہ دور میں نت نئے وائرسز اور وبائی امراض کا ابھرنا ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، قدرتی وسائل کی کمی اور ماحولیاتی تبدیلیاں انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان فاصلوں کو کم کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں Zoonotic Diseases (وہ بیماریاں جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہیں) میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان دنوں بنگلہ دیش اور بھارت میں "نیپاہ وائرس (NiV)کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس کے پھیلاؤ کا خطرہ سرحدوں سے بالاتر ہے۔
نیپاہ وائرس کیا ہے اور کیسے پھیلتا ہے؟
نیپاہ ایک مہلک وائرس ہے جس کا قدرتی مسکن "فروٹ بیٹس” (Pteropus bats) یا پھل کھانے والی بڑی چمگادڑیں ہیں۔ سائنسی اعتبار سے اس کے پھیلاؤ کے تین بڑے ذرائع ہیں:
* جانور سے انسان: متاثرہ چمگادڑ کے لعاب (Saliva)، پیشاب یا فضلے سے آلودہ پھلوں اور کھجور کے رس (Sap) کے استعمال سے۔
* درمیانی میزبان: سور، گھوڑے، کتے اور بلیاں بھی اس وائرس سے متاثر ہو کر اسے انسانوں تک منتقل کر سکتے ہیں۔
* انسان سے انسان: متاثرہ مریض کے قریبی رابطے یا جسمانی رطوبتوں کے ذریعے یہ وائرس ایک فرد سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔
ان پانچ پھلوں کے استعمال میں خاص احتیاط برتیں
چمگادڑیں عام طور پر میٹھے اور گودے دار پھلوں کی طرف راغب ہوتی ہیں۔ مزے کی بات ہے کی یہ ترش اور کھٹے پھلوں کی طرف کم توجہ دیتی ہے جیسے کنوں، مالٹا، سنگترہ، لیموں وغیرہ ہیں
نیپاہ سے بچاؤ کے لیے درج ذیل پھلوں کے معاملے میں سائنسی احتیاط لازمی ہے:
* کھجور اور اس کا رس: چمگادڑیں کھجور کے درختوں پر بسیرا کرتی ہیں۔ بنگلہ دیش میں نیپاہ کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ کھجور کا کچا رس (Raw Date Palm Sap) پینا ثابت ہوئی ہے، جسے چمگادڑیں رات کے وقت آلودہ کر دیتی ہیں۔ کھجور کو ہمیشہ دھو کر استعمال کریں اور درخت سے گری ہوئی کھجور ہرگز نہ کھائیں۔
* امرود: امرود کی خوشبو اور مٹھاس چمگادڑوں اور گلہریوں کو راغب کرتی ہے۔ پرندوں یا چمگادڑ کے کترے ہوئے امرود میں وائرس کی موجودگی کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔
* آم: آم میں موجود شکر (Fructose) کی زیادہ مقدار کی وجہ سے چمگادڑیں اسے شوق سے کھاتی ہیں۔ مارکیٹ سے لائے گئے آموں کو اچھی طرح دھونا اور چھلکا اتار کر استعمال کرنا ضروری ہے۔
* کیلا: چمگادڑیں کیلے کے خوشوں پر بیٹھتی ہیں۔ اگرچہ کیلا چھلکے کی وجہ سے محفوظ لگتا ہے، لیکن چھلکے پر موجود چمگادڑ کی رطوبت چھیلتے وقت ہاتھوں اور گودے تک پہنچ سکتی ہے۔
پپیتا:- پکے ہوئے پپیتا بھی ان کی پسند ہوتے ہیں اس کے علاوہ
بیری اور لیچی: چھوٹے اور لٹکتے ہوئے پھل چمگادڑوں کے لیے آسان ہدف ہوتے ہیں۔
اہم سائنسی نوٹ اور حفاظتی تدابیر
* زخمی پھلوں سے پرہیز: ہر وہ پھل جس پر کسی پرندے یا جانور کے دانتوں یا ناخنوں کے نشان ہوں، اسے فوری تلف کر دیں۔ اسے دھو کر کھانا بھی محفوظ نہیں کیونکہ وائرس گودے کے اندر سرایت کر سکتا ہے۔
* درخت سے گرے پھل: زمین پر گرے ہوئے پھل چمگادڑ کے فضلے یا لعاب سے آلودہ ہونے کا سب سے زیادہ امکان رکھتے ہیں۔
* صفائی کا اصول: ہر چیز کھانے سے پہلے اپنے ہاتھ اچھی طرح دھوئیں اور پھلوں کو بہتے ہوئے پانی (Running water) میں اچھی طرح دھوئیں اور ممکن ہو تو سرکہ ملے پانی سے جراثیم کشی کریں۔
* قوتِ مدافعت (Immunity): ایک متوازن غذا اور صحت مند Microbiome (جسم کے اندر موجود دوست بیکٹیریا) آپ کے دفاعی نظام کو مضبوط بناتے ہیں، جو کسی بھی وائرس کے خلاف لڑنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ اپنی خوراک کے انتخاب میں ہوشیاری برتیں اور وبائی امراض سے محفوظ رہیں۔