گلبدین حکمت یار افغانستان انتخابات مطالبہ

گلبدین حکمت یار نے افغانستان میں سیاسی تبدیلی اور شفاف انتخابات کامطالبہ کردیا

رہنما حزب اسلامی گلبدین حکمت یار نے طالبان رجیم کو ناقابل قبول قرار دے دیا

افغان عوام اورسیاسی قیادت نے بھی طالبان رجیم پرعدم اعتماد کا اظہار کردیا اور افغانستان میں نظام کی تبدیلی کامطالبہ زور پکڑ گیا۔

افغان میڈیا کے مطابق حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار نے طالبان رجیم کوناقابل قبول قراردیتے ہوئے سیاسی تبدیلی اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے۔

افغان نشریاتی ادارے آمو ٹی وی کے مطابق سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے کہا طالبان رجیم میں آئین اور شوریٰ جیسے بنیادی عناصر کی عدم موجودگی پر افغان طالبان کو شدید تنقید کانشانہ بنایا۔ کہا طالبان رجیم میں افغانستان کےحالات ہرگزعوامی امنگوں کےمطابق نہیں،فوری اصلاحات ضروری ہیں۔

افغان سیاسی جماعت حزب وحدت اسلامی افغانستان کا بھی کہناہے گزشتہ چار سال میں سابق حکومت کے درجنوں ارکان اورسیکیورٹی اہلکاروں کوقتل اور قیدکیا گیا۔ بیرون ملک موجود سیاسی قائدین عوامی مینڈیٹ کے حامل نظام تک واپس نہیں آئیں گے،ایسے میں کسی بھی بحران کےذمہ دارطالبان ہونگے۔

ماہرین کا کہنا ہے ناکام افغان طالبان رجیم نےافغانستان پرمسلط ہوکر افغان معیشت اور معاشرے کو مکمل طور پرتباہ کردیاہے۔