امریکا اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ، 51 شہری جاں بحق، کئی سینئر فوجی اور سیاسی رہنماوں کی ہلاکت کی اطلاعات، ایران کی جوابی کارروائی جاری

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پرمشترکہ حملہ کردیا گیا،ایرانی حکام کےمطابق حملوں میں ایران کے کئی سینیئرفوجی اورسیاسی رہنمامارے گئے،صدارتی آفس،آرمی چیف ،وزرا،دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا،پارچین ملٹری کمپلیکس اور وزارت انٹیلی جنس کو بھی نشانہ بنایا گیا، دار الحکومت تہران پر فضا اورسمندر سے میزائل داغے گئے،صدارتی محل اور خامنہ کی رہائشگاہ کے قریب 7 میزائل گرے،ایرانی صدر اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای محفوظ رہے،،پینٹاگون نےایران کے خلاف آپریشن کو "ایپک فیوری” کا نام دیا۔

 اسرائیل کے ایرانی شہر میناب میں لڑکیوں کے سکول پر کیئے گئے حملے میں 51 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں ۔اسرائیل کی جانب سے ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے سکول پر شدید بمباری کی گئی جس دوران جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 51 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں زیادہ تر طالبات شامل  ہیں ۔ حملے کے وقت سکول میں 170 سے زائد بچیاں موجود تھیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے ایران کے شہر ابیک میں بھی اسکول پر اسرائیلی حملہ کر دیاہے، امام رضا اسکول میں متعدد طلبہ جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں،زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ 

رائٹرز کےمطابق ایرانی دارالحکومت تہران میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا،تہران کی یونیورسٹی اسٹریٹ میں متعدد میزائل گرے،سید خاندان،ایرانی بندرگاہ چابہار پر بھی میزائل گرے،مہرآباد ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا،تہران اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ معطل کردی گئی ہے،جبکہ پورے ملک میں موبائل سروس معطل ہوگئی،انٹرنیٹ کنیکشن کی رفتار بھی سست ہے،دھماکوں کی آواز سن کرلوگ افراتفری میں بھاگ رہےہیں،تعلیمی ادارے بند کردیے گئے، تمام کلاسز آن لائن منعقد ہونگی،

خبرایجنسی کےمطابق ایرانی سپریم لیڈرتہران میں موجود نہیں ہیں،علی خامنہ ای کو محفوظ مقام پر منتقل کیاگیا ہے، ایرانی حکام نےرائٹرز سےگفتگومیں کہاتہران میں کئی منسٹریزکی عمارتوں کو نشانہ بنایاگیا۔

 رائٹرز کےمطابق اسرائیل کا ایرانی سپریم لیڈر اور صدر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا،اسرائیلی حکام کے مطابق دونوں کے ٹھکانوں پر حملے ہوئے، نتائج سے لاعلم ہیں۔