ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے، ایرانی سپریم نیشنل ڈیفنس کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک ایٹمی ہتھیاروں کی کوشش نہیں کر رہا۔
علی شمخانی نے جمعرات کے روز، ایرانی اور امریکی فریقوں کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کے تیسرے دور کے آغاز کے فوراً بعد "ایکس” پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "اگر مذاکرات میں بنیادی مسئلہ ایران کا ایٹمی ہتھیار نہ بنانا ہے، تو یہ رہبرِ اعلیٰ کے فتوے اور ایرانی دفاعی نظریے کے عین مطابق ہے … اور اس سے فوری معاہدے تک پہنچنا ممکن ہو جاتا ہے”۔
انہوں نے جنیوا میں اپنے ملک کے وفد کی قیادت کرنے والے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو گرین سگنل دیتے ہوئے کہا کہ "عراقچی کو اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مکمل حمایت اور کافی اختیارات حاصل ہیں”۔
اس سے قبل آج مسعود پزشکیان نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان کا ملک ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران "اس سلسلے میں رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے فتوے پر کاربند ہے”۔
پزشکیان نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ تہران نے "بارہا اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا”۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "کوئی بھی طاقت ایران کو گرا نہیں سکتی”۔
واضح رہے کہ علی خامنہ ای، جنہیں ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ساز تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس صدی کی پہلی دہائی کے اوائل میں جاری کردہ ایک فتوے میں ایٹمی ہتھیار بنانے کو حرام قرار دیا تھا۔
تاہم واشنگٹن نے حال ہی میں تہران کی جانب سے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کے الزامات کو دہرایا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گذشتہ روز بدھ کو کہا تھا کہ ان کے ملک نے ایسے شواہد دیکھے ہیں کہ تہران ہتھیار بنانے کے لیے اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ بیان جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر واشنگٹن کے زیر قیادت ہونے والے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
اسی طرح، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ منگل کو کانگریس میں ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ خطاب کے دوران کہا تھا "ہم ان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم نے اب تک ان سے وہ خفیہ الفاظ نہیں سنے کہ … ہم کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کریں گے”۔
واضح رہے کہ ایرانی وفد نے آج عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کو ایک تجویز پیش کی تھی تاکہ وہ اسے امریکی وفد کے حوالے کر دیں۔ جبکہ عمانی وزیر نے انکشاف کیا کہ دونوں وفود نے ایک مستقل اور منصفانہ حل تک پہنچنے کے لیے غیر معمولی آمادگی ظاہر کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے 2018 میں 2015 کے جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر علیحدگی اختیار کی تھی، اب تہران سے تحریری رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن میں ایٹمی ہتھیار نہ بنانے یا یورینیم کی اعلیٰ سطح پر افزودگی نہ کرنے کی غیر معینہ مدت تک کی ضمانتیں شامل ہوں۔
دوسری جانب، ایران پُر امن مقاصد کے لیے افزودگی کے اپنے حق پر قائم ہے، تاہم وہ اس افزودگی کی شرح کو کم کرنے، اعلیٰ افزودہ یورینیم کی نصف مقدار ملک سے باہر بھیجنے اور یورینیم کی افزودگی کے لیے کسی علاقائی کونسل میں شمولیت کے امکان پر لچک دکھا رہا ہے۔