خواجہ آصف پاکستان جنگ بندی کردار

تاریخ میں شائد اتنی خوشی اور فخر کا لمحہ آیا ہو، یورپی ممالک اور ہمارے تمام دوست تعریف کر رہے ہیں: خواجہ آصف

پاکستان دنیا کی بہت  بڑی  جنگ  رکوانے میں کامیاب ہوا ہے، مودی فارغ  ہوگیا، اس کے  پلےکچھ نہیں  رہا، بھارتی میڈیا اب  تڑپتا  رہےگا: وزیر دفاع

اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس دوران خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں شاید اتنی  خوشی اور فخر کا لمحہ آیا ہو،گزشتہ سال ازلی دشمن کو دھول چٹائی،پاکستان کا قد کاٹھ عالمی افق پر نمایاں ہو رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق خواجہ آصف نے کہا کہ یورپی ممالک ہمارے تمام دوست پاکستانی قیادت کی تعریف کر رہے ہیں،قیادت کی بصیرت کوداد دیتا ہوں، فتح کی صورت میں نتیجہ نکلا،امریکی صدر نے متعدد بار پاکستان کی تعریف کی جس کا ادراک بھارت میں بھی ہے،ہمارے اندر تنازعات ہیں،تاہم افغانستان کے محاذ پر بھی جنگ لڑ رہے ہیں۔

اس سے قبل پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان دنیا کی بہت  بڑی  جنگ  رکوانے میں کامیاب ہوا ہے، مودی فارغ  ہوگیا، اس کے  پلےکچھ نہیں  رہا، بھارتی میڈیا اب  تڑپتا  رہےگا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سب کو بہت بہت مبارک ہو، اللہ نے پاکستان کو دنیا بھر میں عزت دی، پاکستان کو بااعتماد ثالث کے طور پر خطے اور  پوری دنیا میں تسلیم کیا گیا ہے، عرب بھائیوں،عالمی طاقت امریکا سمیت پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں۔

انہوں نےکہا کہ کل شام تک جنگ کےگہرے بادل چھائے  ہوئے تھے، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور  وزیراعظم  شہبازشریف کی جنگ بندی کے حوالے  سےکوششیں رنگ لے آئیں، جنگ بندی میں کامیابی کے بعد پاکستان سیاسی طور  پر  بھی ایک نئے دور میں داخل ہو  رہا ہے، اب استحکام بھی ہوگا  اور  ہم معیشت  پر بھی توجہ مرکوز کرسکیں گے۔

 خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سول اور عسکری قیادت پر مشتمل ہائبرڈ ماڈل نے دو تین سال میں بے پناہ کامیابیاں سمیٹیں، ثابت ہوتا ہے طاقت کے مراکز  مل کرکام کریں تو پاکستان عالمی سطح پرکتنی کامیابیاں حاصل کرسکتا ہے۔

وزیر وفاع کا کہنا تھا کہ  مودی فارغ ہوگیا،اس کے پلے کچھ نہیں رہا،  بھارتی میڈیا اب تڑپتا رہےگا،  ہم نے پانچ گنا بڑے شمن کو دھول چٹائی، بھارت ابھی تک اپنی عزت بحال کرنےکی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  بحیثیت قوم اب ہمیں داخلی محاذ، معیشت اور دہشت گردی سے نمٹنے کی ضرورت ہے، افغانستان کو بھی اس بات کی حیا کرنی چاہیے  جو  ہم  نے اتنے برس میزبانی کی، اگر افغانستان اس میزبانی کا لحاظ نہیں کرتا تو ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں۔